تحریر : انیلہ عمار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے 14 اگست کو اسلام آباد میں آزادی اور انقلاب مارچ کے اخراجات ڈھائی ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں ۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے ممکنہ طور پر موبائل فون سروس کی بندش کا توڑ کرنے کے لیے اپنے رہنماؤں اور عہدیداروں میں 31 ہزار سیٹلائٹ فون تقسیم کئے گئے ہیں ۔ جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ کو 25 ہزار چکن شامی کباب پلاؤ کا آڈر بھی دیدیا گیا ہے ، جبکہ مارچ میں شرکت کرنے والے ہزاروں موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول کی رقم بھی پیشگی دی جا چکی ہے ۔ ذرائع کے مطابق طاہرالقادری نے اپنے لیے دو کروڑ روپے کے اخراجات سے ایک بلٹ پروف ٹرک تیار کرایا ہے ، جس میں تمام سہولتیں مہیا کی گئی ہیں ۔

ذرائع کے مطابق باہمی رابطے بحال رکھنے کے لیے عوامی تحریک کے رہنماؤں اور ضلح و تحصیل کی سطح تک کے عہدیداروں میں 22 ہزار اور تحریک انصاف کی جانب سے رہنماؤں اور عہدیداروں کو 9 ہزار سیٹلائٹ فون دئیے گئے ہیں ۔ دونوں جماعتیں اپنے کارکنوں اور حامیوں کو اسلام آباد لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں پاکستان کے سبز ہلالی پرچموں کی جگہ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے جھنڈے لہراتے نظر آئیں گے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آزادی اور انقلاب مارچ ے لیے دونوں پارٹیاں خطیر رقوم خرچ کر رہی ہیں اور اب تک ڈھائی ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں ۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کر احتجاج کے لیے کنونشن سینٹر اسلام آباد کے پاس جگہ دی گئی تھی ، جس کو تحریک انصاف نے مسترد کر دیا ۔

عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک لاکھ موٹر سائیکل سوار نوجوان اس ریلی میں شرکت کریں گے ۔ جبکہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا کہنا ہے کہ وہ صرف راولپنڈی سے 25 ہزار موٹر سائیکلوں کا جلوس نکالے گی ، اور یہ کہ ریلی میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کی رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے ۔ تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کے لیے رقم فراہم کر دی گئی ہے ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 70 سی سی موٹر سائیکل کی ٹنکی تقریباً 10 لیٹر کی ہوتی ہے ۔ اس طرح ایک لاکھ موٹر سائیکلوں کے لیے 10 لاکھ لیٹر پیٹرول خریدنے کے لیے رقم دے دی گئی ہوگی ، جو تقریباً 10 کروڑ 80 لکھ روپے بنتی ہے ۔ بسوں اور ویگنوں کے لیے خریدے جانے والے پیٹرول کی قیمت اس کے علاوہ ہے ، جس کا انداز آنے والی بسوں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق ، تحریک انصاف کی جانب سے خیبر پختون کے ہر ضلح سے خواتین کو لانے کے لیے 10 کوسٹرز کا انتظام کیا گیا ہے ۔ یہ اخراجات الگ ہیں ۔ جبکہ تحریک انصاف پنجاب کے انتظامات ابھی خفیہ ہیں ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے قافلوں کو اسلام آباد داخلے کی اجازت دی جاسکتی تھی ، لیکن طاہرالقادری کے آزادی مارچ کا ساتھ دینے کے سبب ، مارچ کے پرتشدد ہونے کا اندیشہ ہے ، لہٰذا انہیں روکنے کے لیے انتظامات کر لیے گئے ہیں ۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف نے اپنے آزادی مارچ کے لیے کراچی سے راولپنڈی کے لیے ایک خصوصی ٹرین کی بکنگ کے لیے درخوست کی تھی ، لیکن محکمہ ریلوے نے اس کی اجازت نہیں دی ، کیونکہ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے ٹرین کو اضافی سیکورٹی فراہم کرنے سے معذرت کرلی تھی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ٹرین میں ڈھائی سے تین ہزار افراد کی بکنگ ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے مارچ کے لیے بڑا بجٹ رکھا ہے ۔ تحریک انصاف کے قائد نے کہا ہے کہ کارکن ہر قیمت پر اسلام آباد میں داخل ہوں ۔

ادھر عوامی تحریک نے اتوار کو لاہور میں یومِ شہداپر 20 ہزار افراد کے کھانے کا انتظام کیا تھا ، جبکہ تحریک انصاف نے پارٹی عہدیداروں کے لیے 14 اگست کو 25 ہزار شامی کباب پلاؤ کا آرڈر اسلام آباد کے ایک مشہور ریسٹورنٹ کو دے رکھا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے ریسٹورنٹ مالکان اب طاہرلقادری کی جانب سے آرڈرکے منتظر ہیں ۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف نے ریسٹورنٹ مالکان کو آزادی مارچ میں موبائل کینٹین قائم کرنے کی دعوت دے تھی ، جن سے مارچ کے شرکا کو رعایتی نرخ پر چکن پلاؤ کباب فروخت کیا جاتااور باقی قیمت تحریک انصاف ادا کرتی ۔ لیکن ریسٹورنٹ مالکان نے دارالحکومت میں کشیدہ سیاسی صورتِ حال کی بنا پر اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے ۔

آزادی مارچ کے لیے تحریک انصاف نے بڑی تعداد میں پرچم اور بیجز تیار کئے ہیں ، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بانس فروخت کرنے والوں کی دکانداری عروج پر ہے ، کیونکہ جھنڈوں اور بینرز کے لیے بڑی تعداد میں بانسوں کی خریداری کی جارہی ہے ۔ تحریک انصاف کے آزادی مارچ میں خیبر پختون میں اس کی اتحادی جماعتیں شریک نہیں ہیں ۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو یہ نہیں بتایا کہ ان کا پروگرام کیا ہے ۔ دھرنا دینا ہے یا صرف ایک دن آزادی مارچ کرنا ہے ۔ اس حوالے سے کارکن تذبذب کا شکار ہیں ۔ البتہ کارکنوں سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ کھانے پینے کا وافر انتظام کر کے آئیں ۔

طاہرالقادری کی پارٹی کے مارچ میں شرکت سے اسلام آباد کے تاجر پریشان ہیں ۔ کیونکہ ہنگامہ آرائی کی صورت میں ان کی املاک کو نقصان پہنچائے جانے کا خدشہ ہے ۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کے شہری بھی سخت پریشان ہیں ۔ کیونکہ طاہرالقادری کے کارکنوں نے پچھلی بار ڈی چوک پر چار روزہ دھرنے میں علاقے کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا تھا ۔ سینکڑوں افراد گرین بیلٹ میں لگے درختوں اور قریبی جھاڑیوں میں فراغت حاصل کرتے رہے تھے ، جس کی وجہ سے کئی دن تک بدبو اُٹھتی رہی تھی ۔ اب اگر یومِ آزادی پر ایک لاکھ لوگ بھی اسلام آباد میں آکر جمع ہوئے اور انہوں نے کھلی جگہوں پر حوائج ضروریہ سے فراغت حاصل کی تو دارالحکومت میں انقلاب تو کیا ۔۔۔۔۔۔ بیماریوں کا سیلاب آجائے گا ، دونوں جماعتوں نے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے کوئی بندوبست نہیں کیا ہے ۔
0 comments:
Post a Comment